مقصد رسالت اور دور حاضر کے مسلمان ،عارف محمود کسانہ

افکار تازہ
دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب کو ماننے والے اپنے قومی دنِ، اہم ایام اور تہوارپورے جوش و خروش سے مناتے ہیں جس سے اُن کی قومی وحدت ، اپنے نظریہ سے لگن اور اُس کے ساتھ وابستگی کا بھر پور اظہارہوتا ہے۔ اس طرح کی تقریبات ایک طرح سے اُن کے ملی اور قومی جذبہ کا مظہر ہوتی ہیں۔ عید میلاد النبی ۖ بھی ایک ایسی ہی تقریب ہے جو رسول اکرم کی اس دنیا میں تشریف لانے کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ سورہ یونس کی آیت ٥٨ میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ قرآنِ حکیم جیسی عظیم نعمت جو بعثِ محمدیۖ سے ممکن ہوئی، اس کے ملنے پر جشنِ مسرت منائو۔ قرآن اورصاحبِ قرآن کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتاکیونکہ آپۖ نے اپنی تئیس سال کی زندگی میں قرآن کو عملاََ متشکل کر کے دیکھایا نیزاُم المومنین حضرت عائشہ کا ارشاد ہے کہ حضورۖ کا خلق قرآن تھا یعنی آپ مجسمِ قرآن تھے ۔ بلا شبہ حضورۖ کی دنیا میں تشریف آوری تمام انسانیت لئے باعث مسرت و شادمانی ہے کیونکہ آپ کی ذات پوری کائنات کے لئے رحمت اور محسن انسانیت ہے۔ انہوں نے انقلاب آفرین اعلان کیاکہ رنگ و نسل اور زبان و ملک کی کوئی تخصیص نہیں اور تما م بنی نوع آدم محض انسان ہونے کے ناطے قابل عزت ہیں۔ انہوں نے انسان کو اس کے اصل مقام سے روشناس کراتے ہوئے اُسے شرف عظمت بخشا ۔اور حقوق انسانی کا درس دیا۔آپ ۖ نے رنگ و نسل اور ذات پات کے تمام بُت پاش پاش کردیے گئے ہیں ۔آپۖ نے حقوق انسانی کا دستور دیتے ہوئے بتادیا کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان پر اپنا حکم نہیں چلا سکتا۔ حاکمیت صرف خدا کی ہے جو اُس کی کتاب کے ذریعہ ہے اور یہی انہوں نے قیامت تک آنے والوں کے لیے رہنما ئی کے لیے چھوڑی جس کا واضع اعلان اپنے آخری خطبہ میں بھی کیا۔آپۖ کی بدولت انسانیت کو قرآن ملا ۔ آپ ۖ نے مروجہ نظریات میں جکڑے ہوئے انسانوں کو سوچنے سمجھنے اور غوروفکر کا پیغام دیا جس کی بدولت انسان آج ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ آپ کے اُس نقلاب کا پوری دنیا نے اعتراف کیا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے مفکرین نے آپ کو اس پر خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ آپ کی محکوم طبقوں کے حقوق کی جدوجہد، شرف انسانیت اور عالمگیر بھائی چارہ کے حیات آفرین دستور کا اعتراف کرنے والوں میں لارڈمائن، مائیکل ایچ ہارٹ، لیونرڈ کارلائل، برائون، سٹیفن سن، سمتھ، سر ولیم میور، سپالڈنگ، ریمنڈلبروگ، ڈاکٹر رائوڈن، گِبن، سر رچرڈ گریگوری، برناڈ شاہ، گائٹے، برگساں، کیتھلین بلس، لیمیرٹے، ہملٹن گب، جوزف سیہیچ، آرتھر گیلمین، ون کریمر، بوڈلے، رابرٹ گولیک، جوزف نونان اور دنیا کے اور بہت عظیم لوگ شامل ہیں ۔
ہم رسول اکرم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ جس عظیم مقصد کے لئے انہوں نے جدوجہد کی ، کیا ہمارا طرز عمل کے مطابق ہے یا نہیں۔ محبت رسول ۖ کا تقاضا ہے کہ ہم اس امر کا جائیزہ لیں کہ کیا ہماری زندگی حضور کی تعلیمات اور مقصد رسالت کے مطابق ہے یا نہیں۔ انبیاء اکرام کی بعثت کے بارے قرآن حکیم یہ واضح کرتا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر کے تشریف لے جانے کے بعد لوگ آپس میں اختلافات شروع کردیتے تھے تو خدا کسی اور پیغمبر کو بھیج دیتا تھا کہ تنازعات ختم ہوں اور مخلوق میں وحدت پیدا ہو۔ قرآن حکیم یہ بھی کہتا ہے کہ دین شروع سے اسلام ہی تھا۔ اہل کتاب نے باہمی ضد سے اس میں اختلاف پیدا کردیا۔ خدا نے انبیاء کو بھیجا اور کتابیں نازل کیں کہ تاکہ لوگوں کے اختلافات رفع ہوجائیں (2/213)۔ رسول اکرم کی جانب قرآن کا نزول اختلافات مٹانے کے لئے کیا گیا ( 39/3 39/46,)۔ قرآن حکیم نے مقصد رسالت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے مومنین کے دلوں میں اس قسم کی باہمی الفت ڈال دی جو دنیا جہاں کی دولت خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی تھی (8/63)۔ وہ لوگ جو مختلف تعصبات کا شکار تھے اور جن کے شب و روز لڑائی جھگڑوں میں گذرتے تھے انہیں بعثت نبوی کی بدولت بھائی بھائی بنا دیا (3/103, (49/10, رسول پاک اور ان کے ساتھیوں کے صفات حسنہ ان کی باہمی محبت اور مودت تھی، ان سب کے مغفرت اور اجر عظیم ہے (48/29)ان احکامات قرآن سے مقصد رسالت باکل عیاں ہے کہ اختلافات اور جھگڑوں کو ختم کرکے امت واحدہ تشکیل دی جائے۔ ان واضح تعلیمات کے باوجود جو لوگ امت میں اختلافات پیدا کرتے ہیں اور فرقے بناتے ہیں، لوگوں کو جماعتوں میں تقسیم کرتے ہیں، دین کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں، کیا وہ مقصد رسالت کے سراسر منافی کام نہیں کرتے ہیں اور کیا انہیں علم نہیں کہ قرآن نے صاف کہا کہ جن لوگوں نے بھی دین میں فرقے بنائے ان کا رسول اکرم سے کوئی تعلق نہیں۔ جو عناصر لسانی، قبیلائی، نسلی، جغرافیائی اور دیگر بنیادوں پر تفرقہ پیدا کرتے کیا ان کا عمل مقصد رسالت کے متصادم نہیں۔ امت مسلمہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی جرات کیسے کرتے ہیں۔ کہیں عرب اور عجم کا جھگڑا ہے اور کہیں سید اور غیر سید کی تفریق حالانکہ رسول پاک نے اپنے آخری خطبہ میں اعلان کیا کہ رنگ و نسل اور زبان کے تمام تعصبات کو ختم کیا جاتا ہے۔ نیشنل ازم اور فروقوں نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اس سے دین کا تصور ختم ہوجاتا ہے اور محض رسمی عبادات پر مشتمل ایک مذہب باقی رہ جاتا ہے۔اس ماہ مبارک میں ہم سب اپنا احتساب کریں اور دین کی اصل روح کوسمجھ کر اپنی زندگی اس کی روشنی میں طے کریں۔ یہی محبت رسول ۖ کا تقاضا ہے جس کا عملی ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *