وزیراعظم نوازشریف جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے


اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف جمعرات 15جون کو پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے صبح 11 بجے پیش ہوں گے۔

 جے آئی ٹی کا سمن موصول ہونے کے بعد رائیونڈ میں اجلاس ہوا جس میں مشاورت کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کا فیصلہ کیا، اجلاس کے دوران قانونی ماہرین نے وزیراعظم کو ان کے بیٹوں کی پیشی اور حسین نواز، صدر نیشنل بینک سعید احمد کی درخواستوں سے متعلق بریفنگ دی جبکہ اب تک کی کارروائی پر بھی مشاورت کی گئی۔
پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو تحقیقات کے لیے جمعرات15جون کو طلب کرلیا جب کہ نواز شریف نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کو8 جون کو سمن جاری کیا اور انھیں درخواست کی کہ وہ تمام ضروری دستاویزات اور ریکارڈ کے ساتھ 15جون کو صبح11بجے پیش ہوں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم واضح کرچکے ہیں کہ ہم اپنی3 نسلوں کاحساب دے رہے ہیں اور اس حوالے سے جے آئی ٹی میں بھی تمام سوالات کاجواب دیں گے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہناہے کہ 1973میں ہماری فیکٹری قومیالی گئی تو ہمیں اسی صبح بتایا گیا کہ آپ فیکٹری نہیں جاسکتے جبکہ ایک فیکٹری1971میں سقوط ڈھاکا کے دوران چھین لی گئی،1973میں کاروبار کے لیے کوئی پیسہ نہ تھا تو پھر سوال کس بات کا کیا جارہا ہے؟ وزیراعظم کے والد میاں محمد شریف نے1937 میں اپنی پہلی فیکٹری لگائی تھی اوروہ پاکستان بننے سے پہلے کاروبار کررہے تھے، انکی اسی کاروباری ساکھ کی بنیاد پر انھیں بیرون ملک قرضے مل گئے جن سے انھوں نے یواے ای، قطر ،لندن میں کاروبار کاآغاز کیا۔ نوازشریف نے کوئی چیز چھپائی اورنہ ہی منی ٹریل چھپانے کے لیے سپریم کورٹ سے کوئی استثنیٰ لیا، حسین نواز نے تمام پیسہ بینکوں کے ذریعے ہی بھیجا جو بین الاقوامی آڈٹ فرم سے آڈٹ شدہ ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم کے صاحب زادے حسن نواز2 بار اور حسین نواز5 بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں جس میں ان سے کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *