استنبول میں اغواءبرائے تاوان مافیا کے ہاتھوں 6 پاکستانی نوجوانوں کا بہیمانہ قتل

استنبول:ترکی کے شہر استنبول میں بہتر مستقبل کی خواہش میں گئے ہوئے چھ پاکستانی نوجوانوں کو کردوں نے انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روزاستبول کے محلہ سلطان چپلی میں افغانیوں اور کرد باشندوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا اور ان لوگوں کا تعلق اغواءبرائے تاوان مافیا سے ہے۔جھگڑے کے بعد اس مافیا کے زیر اثر علاقے میں فسادات شروع ہو گئے اور دونوں گروپوں نے پاکستانیوں کے گھروں پر حملہ کردیا جہاں وہ نوجوان مقیم تھے جو ترکی سے یورپ میں داخلے کیلئے منتظر تھے اور ترکی کے شہر استنبول میں مقیم تھے۔کرد اور افغانی بلوائیوں نے چھ پاکستانی نوجوانوں کو آہنی راڈوں اور چھروں کے وار کر کے قتل کیا اور متعدد کو انتہائی زخمی کردیا۔اس واقعے کے بعد پاکستانیوں میں خوف وہراس پھیل گیا ۔افغانی اور کرد اغواءکاروں کے زیر اثر اس علاقے میں تر ک پولیس بھی داخل نہیں ہو سکتی اور مقامی پولیس لے دے کر کارروائی سے بھی گریز کرتی ہے۔استنبول میں مقیم پاکستانی تنظیموں نے پاکستانی قونصل خانے اورسفارتخانے کی واقعے کے بعد بے حسی پر شدید الفاظ میں احتجاج کیا ہے۔نوجوانوں کو نعشوں اور زخمیوں کو ان کے گھروں سے پاکستانیوں نوجوانوں نے خود نکالا ۔اطلاعات کے مطابق رات گئے تک کرد اور افغانی بلوائیوں کے پاکستانیوں کے گھروں پر حملوں کی خبریں مسلسل مل رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق دوہلاک ہو نیوالے پاکستانی نوجوانوں کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے جبکہ باقی چار کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *