ڈاکٹر طاہرالقادری کا دہشت گردی کیخلاف فتویٰ،یونانی زبان میں ترجمہ،تقریب کا انعقاد

ایتھنز:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دہشت گردی کے خلاف لکھے گئے تاریخی فتویٰ کا یونانی زبان میں ترجمہ ہوگیا اور کتابی شکل میں منظر عام پر آگیا ہے ۔اس ضمن میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ جس کا انعقاد منہاج القرآن یونان نے کیا تھا۔تقریب کے مہمان خصوصی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ڈاکٹر حسن محی الدین تھے جبکہ صدارت سفیر پاکستان خالد عثمان قیصرتھے۔ مقررین میں یونانی شخصیات بھی شامل تھیں۔تقریب میں مسیحی فرقے آرتھوڈاکس کے عالم نے بھی شرکت کی ۔مقررین نے کہا کہ ڈاکٹرمحمد طاہر القادری نے اپنے فتوے میں لکھا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور خودکُش حملے کرنے والے شہادت کا مرتبہ پانے کی بجائے جہنم پاتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا یا اسے اذیت دینا فعل حرام ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ انسان مسلم ہے یا غیرمسلم۔ دہشت گردی کے موجودہ واقعات میں ملوث خودکش بمبار قتل اور خودکشی جیسے دو حرام امور کے مرتکب ہوکر صریحاََ کفر کر رہے ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بحائے دلیل، منطق، گفت و شنید اور پرامن جدوجہد کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بالعموم جہالت اور عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔تقریب کے مہمان خصوصی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ مسلم حکومت میں نظمِ ریاست اور ہیئت اجتماعی کے خلاف ہتھیار اٹھانا ’’خوارج‘‘ کا کام ہے، جس کی شدید مذمت اور اس کے خلاف عملی اقدامات تعلیمات اسلام اور اسلامی تاریخ کا مستقل باب ہے۔ عہد حاضر کے دہشت گرد بھی درحقیقت انہی خوارج کا تسلسل ہیں، لہٰذا ان کی سرکوبی اور مکمل خاتمے کے لیے بھی اسی طرح اقدامات ضروری ہیں جس طرح قرون اُولیٰ میں اٹھائے گئے تھے۔اس موقع پر سفیر پاکستان خالد عثمان قیصر نے کہا کہ دہشت گردی سے عالمی انسانی برادری میں امن و سکون، باہمی برداشت و رواداری اور افہام و تفہیم کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہنے ملت اسلامیہ اور پوری دنیا کو دہشت گردی کے مسئلے پر حقیقت حال سے آگاہ کرنے کیلئے اسلام کا دوٹوک مؤقف قرآن و سنت اور کتب عقائد و فقہ کی روشنی میں پیش کیا ہے تاکہ غلط فہمی اور شکوک و شبہات میں مبتلا حلقوں کو دہشت گردی کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر سمجھنے میں مدد مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *