امت مسلمہ کے بے حس حکمران


عارف محمود کسانہ

کالم تو کسی اور موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا لیکن جب سوشل میڈیا پر برما کے مظلوم اور لاچار مسلمانوں کی ویڈیو دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آگیا اور طبیعت بہت مکدر ہوئی۔ ان ویڈیوکے ساتھ اسلامی کانفرس کے کچھ مندوبین کی تصاویر بھی شامل کی گئی تھیں جن میں وہ سب سو رہے تھے بلکہ خواب غفلت کا شکار تھے۔ امت مسلمہ کے رہنماؤں کی بے حسی اور بے ضمیری پر دل خون آنسو رو رہا ہے ۔ برما کے مسلمان ہوں یا شام کے جنگ زدہ عوام ، جموں کشمیر کے محکوم مسلمان ہوں یا فلسطین کے لاچار عوام، مسلم حکمرانوں کو وہاں ہونے والے مظالم دیکھائی نہیں دیتے اور نہ وہاں بہتا ہوا خون نظر نہیں آتا۔ اقوام متحدہ، یورپ اور امریکہ پر دوہرے معیار رکھنے کا الزام توعائد کیا جاتا ہے لیکن کیا امت مسلمہ کی قیادت کا کون سامعیار ہے اس کا بھی تو پتہ چلے۔ کیا وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں کہ انہیں نہ ظلم دیکھائی دیتا ہے اور نہ مظلوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ ساٹھ سال سے جموں کشمیر کے محکوم عوام ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ عزتوں اور جانوں کے نذرانے دیئے جا رہے ہیں لیکن غاصب سے یہ پوچھنے کی بجائے کہ تم کشمیری مسلمانوں پر ظلم کیوں بند نہیں کرتے اور انہیں آزادی سے کیوں جینے نہیں دیتے الٹا ان سے دوستیاں بڑھائی جارہی ہیں اورانہیں اعزازات سے نوازا جارہاہے۔ کیا انہیں قرآن حکیم کی یہ پکار سنائی نہیں دیتی کہ ’’ اور تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے نہیں لڑتے جو فریاد کررہے ہیں کہ خدایا ہمیں مظلوموں کی اس بستی سے نکال اور ہمارے لئے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کردے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے مددگار پیدا کردے‘‘ (سورہ نساء آیت 75)۔ کیا اللہ کا یہ حکم برما ، فلسطین ،کشمیر اور دوسرے محکوم مسلمانوں کی صورت حال پر پورا نہیں اترتا۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک طرف ظالم برمی سپاہ اور دوسری طرف سمندر، وہ جائیں تو کہاں جائیں۔ پچاس سے زائد اسلامی ممالک اپنے اپنے ملک میں برما کے سفیروں کو طلب کرکے سفارتی انداز میں سخت پیغام دیں اور باز نہ آنے کی صورت میں سفارتی، تجارتی اور دیگر تعلقات کی منقطع کرنے کا قدم اٹھائیں تو ظلم رک سکتا ہے۔ میانمار کی قائد اور حکومت میں سٹیٹ کونسلر آنگ سانگ سوچی سے پوچھا جانا چاہیے کہ امن میں نوبل انعام حاصل کرنے کا کیا یہ مقصد ہے کہ وہاں کی اقلیت کے بے دریغ قتل کیا جائے۔ عالمی میڈیا اور ادارے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی دہائی دے رہے ہیں۔ غیر جانبدارانہ خبروں میں بھی یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ ہزاروں مسلمان جان بچانے کے لئے در بدر ہیں۔ قتل، تشدد ، لوٹ مار اور ریپ کے واقعات عام ہیں لیکن آنگ سانگ سوچی کہہ رہی ہیں کہ وہاں روہنگیا مسلمانوں کی کوئی نسل کشی نہیں ہورہی ہے۔ اس سے شرمناک بیان کوئی اور نہیں ہوسکتا لیکن مسلم دنیا پر موت کا سکوت طاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کیا عالمی ادروں کی خبریں اور ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہیں۔ امت مسلمہ کو کب ہوش آئے گا۔ انڈونیشیا سے مراکش تک اسلامی ممالک کا ایک بحر بیکراں ہے اور اگر وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں توکیوں حل نہیں ہوگا۔ 
بھارت میں اب مسلمانوں پر جو عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے اس سے ہر کوئی آگاہ ہے ماسوائے ہمارے حکمرانوں کے جنہیں اس کی خبر نہیں۔وہاں رہنے والے مسلمانوں کے لئے زندگی بوجھ بنتی جارہی ہے اورخوف کے سائے ہر وقت ان پر چھائے رہتے ہیں۔ وہاں کی ایک بہت بڑی علمی و ادبی شخصیت جنہوں نے ہمیشہ انسان دوستی اور بھائی چارے کا درس دیا ہے جب ان کی یہ تحریر میری نظروں سے گذری تو میں بھی لرز کر رہ گیا کہ ’’ مرا قلم امن و آتشی کے پیام لکھ کے تھک چکا ہے۔ مرے خدا میں لرزتے ہاتوں میں پھر سے تلوار مانگتا ہوں ‘‘۔ ان کا یہ ایک جملہ حقیقت حال کی ترجمانی کے لئے کافی ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کیوں یہ لکھنے پر مجبور ہوئے۔ قیام پاکستان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں رہ جانے والے مسلمانوں کو جابرہاتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا بلکہ یہ ذمہ داری تھی کہ ان کا تحفظ کیا جائے گا۔ لیاقت نہرو معائدہ کے تحت حکومت پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھارت کی حکومت کو پابند کرے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں پر جبروستم بند کروائے بصورت دیگر اسے عالمی اداروں پر اٹھایا جائے۔ یہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں بلکہ دو طرفہ معائدہ کے تحت پاکستان کو یہ حق حاصل ہے۔ اسلام آباد کو خاموشی کا روزہ توڑ کر اپنا ریاستی کرادر ادا کرناچاہیے۔اسلام آباد کو چاہیے کہ کشمیریوں کو بتا دیں کہ وہ اور کتنی قربانیاں دیں۔ کیا مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی روڈ میپ یا لائحہ عمل بھی ہے یا بس کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر نیم دلانہ بیانات دیتے رہیں گے۔ اسلام آباد کی مسئلہ کشمیر سے دلچپسی کا اندازہ تو پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی صدارت سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ اس کمیٹی کے صدر کو نہ مسئلہ کشمیر سے دلچسپی ہے اور نہ وہ کوئی فعال کردار ادا کرسکتے ہیں اور وزیر خارجہ کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی حالانکہ بھوٹان جیسے چھوٹے سے ملک میں بھی وزیر خارجہ موجود ہے۔ 
امت مسلمہ کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیشہ اقتدار پر نہیں رہنا ۔ یوم جزا توآگے آئے گا لیکن اس دنیا میں بھی قانون مکافات عمل ٹھیک ٹھیک نتائج مرتب کرتا ہے۔ اپنے سے پہلے جانے والے حکمرانوں کے انجام کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔دور حاضر میں جب دنیا بھر میں حقوق انسانی کی بات ہورہی ہے تو اسی تناظر میں محکوم لوگوں کی بات کرنا اور بھی آسان ہے لیکن اس کے لئے عزم اور بیداری چاہیے۔سول سوئیٹی، سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتیں بھی اس ضمن میں اہم کرادر ادا کرسکتی ہیں۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری کہ دنیا بھر مظلوم اور محکوم انسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *