ٹرمپ سے جواب طلبی..عارف محمود کسانہ

وری دنیا میں ایک ہیجان بپا ہے اور ہر کوئی فکر مند ہے کہ معلوم نہیں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ نیا قانون ہے اور فلاں پرانا قانون کالعدم ہے۔ کوئی اس طرف سے ہماری جانب داخل نہ ہونے پائے اس لئے فوری دیواروں کی تعمیر شروع کردی جائے۔ جو بھی پناہ کے لئے چھپے ہوئے ہیں انہیں پکڑو اور ملک بدر کرو اور ساتھ ہی سات اسلامی ممالک کے باشندوں کا داخلہ بند کردو۔ دنیا کو ہم اپنی مرضی کا بنائیں گے اور یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ اسی رو میں بہتے ہوئے فلوریڈا میں عوامی اجتماع سے جوش خطابت میں یہ بھی کہہ دیا کہ جرمنی میں کیا ہوا ہے؟ اور کل سویڈن میں کیا ہوا ہے؟ ہاں سویڈن۔ عالمی سطح پر سکوت میں عالم سویڈن نے خاموشی توڑی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ کے اندر چین، ایران، وینزویلا اور دیگر ممالک کو زچ کر دیا لیکن سویڈن بولا۔ وہ سویڈن جس کی کل آبادی امریکہ کے کئی شہروں کی انفرادی آبادی سے بھی کم ہے اور امریکہ کی بہت سی ریاستوں کا انفرادی رقبہ بھی اس سے زیادہ ہے اس سویڈن نے ٹرمپ اس بیان کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور واشنگٹن میں سویڈش سفارت خانہ نے امریکی وزارت خارجہ سے اس بیان کی وضاحت چاہی۔ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار کسی نے اس کے بیانات پر جواب طلبی کی ہے۔ یوں محسوس ہوا کہ سویڈن نے ایک مشہور پاکستانی پنجابی فلم کا مکالمہ دہراتے ہوئے کہا کہ نواں آیاں اے سوہنیا۔
ٹرمپ کے اس بیان پر سابق سویڈش وزیراعظم کارل بلد نے سفارتی زبان میں گہری تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے یہ بیان سیگریٹ پینے کے بعد دیا ہے۔ سویڈش وزیر اعظم سٹیفن لوین نے بھی ٹرمپ کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور امریکی صدر کی لاعلمی اور غلط معلومات پر حیرت کا اظہار کیا۔ سویڈش حکومت نے امریکی انتظامیہ کو سفارتی انداز میں شرمندہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے بہت مشکور ہوں گے اگر آپ ہمیں نشاندہی کردیں کہ سویڈن میں کیا ہوا ہے۔ یہ حیرت صرف سویڈن کوہی نہیں ہوئی بلکہ خود امریکی شہری اپنے صدر کے بیان پر مضطرب ہیں۔ سویڈش ٹیلی وژن نے امریکہ میں جب بہت سے لوگوں سے ٹرمپ کے اس بیان پر رائے حاصل کی تو انہوں نے نہ صرف اپنے صدر کے ساتھ اتفاق نہ کیا بلکہ اسے انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا اور تو اور خود امریکہ کی سویڈن میں سابق سفیر آزیتا راجی نے بھی کہا ہے کہ بالکل سویڈن کو امریکہ سے ٹرمپ کے اس بیان پر وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ امریکی صدر پر جب اس قدر زیادہ دباﺅ بڑھا تو انہوں نے سارا معاملہ فاکس نیوز پر ڈال دیا ۔ وہائیٹ ہاﺅس کی ایک ترجمان نے بھی دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے عمومی طور پر جرائم میں اضافہ کی بات کی ہے اور اور کسی خاص واقعہ کا حوالہ نہیں دیا۔ ٹرمپ کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ اکثر سویڈش عام محافل میں اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور امریکی انتخابات کے موقع پر ایک جائیزہ میں بانوے فی صد سویڈش عوام ٹرمپ پر عدم اعتماد کی رائے دی جبکہ سویڈش پارلیمنٹ کے صرف دو فی صد اراکین اس کے حامی تھے۔ ٹرمپ نے اگرچہ اپنا تعلق سویڈن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی اور اپنی کتاب The Art of the Deal میں لکھا کہ اس کے آباﺅ اجداد کا تعلق سویڈن سے ہے اور اس کے داد سویڈن سے امریکہ منتقل ہوئے تھے لیکن یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی۔ سویڈش عوام نے صاف کہہ دیا بھائی ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا کسی امریکی صدر پر ایسا وقت بھی آنا تھا۔ ٹرمپ نے سویڈن پر نتقید اس لئے بھی کی کہ اس نے اپنی آبادی کے تناسب سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنی ملک میں پناہ دی ہے۔ گذشتہ سال دو لاکھ شامی مہاجرین کے لئے سویڈن نے اپنے دروازے کھولے۔ سویڈن کی یہ انسان دوستی ہے جسے امریکہ کے کاروباری صدر نے ہدف تنقید بنایاہے۔
سوال یہ ہے ٹرمپ کے بیان پر سویڈن نے کیوں ایسا رد عمل دیا حالانکہ سویڈن کے امریکہ کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں۔ لاکھوں سویڈش امریکہ میں مقیم ہیں۔ سویڈن عالمی امور میں بہت کم سخت رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اب کی بار ایسا کیوں مختلف انداز اپنایا ہے۔ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سویڈن نے عالمی سطح پراپنی ایک پرامن اور بہترین فلاحی مملکت کی پہچان بنا رکھی ہے جس وجہ سے پوری دنیا بھر میں سویڈن کو عزت و قار حاصل ہے۔بلند ترین معیار زندگی، حقوق انسانی، جمہوریت اور مساوات کا یہ علمبردار ہے۔ حالیہ عالمی اعداوشمار کے مطابق سویڈن دنیا کا سب سے بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس کی ساکھ اور قومی عزت سب سے اہم ہوتی ہے۔ اس لئے سویڈن نے ایسا رد عمل ظاہر کیا کہ اس کی نیک نامی اور شناخت مجروع نہ ہو۔ اس شدید رد عمل نے ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کو دفاعی مقام پر لا کھڑا کیا۔ جو ملک اپنی عزت و وقار کا سودا کرلیتا ہے اس کے شہریوں کی بھی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہوتی ۔ اپنی عزت و وقار کے لیے قومیں لڑتی ہیں، یہ نہیں کہ کسی ملک کا عام سا وکیل جیسے چاہے تضحیک آمیز بیانات بھری عدالت میں دے اور جواب میں کوئی رد عمل ہی نہ ہو۔ یہ نہیں کہ غریب کی جورو سب کی بھابی کے مصداق کوئی قومی وقار ہی نہ ہو۔ طائر لاہوتی جیسے اقبال کے اشعار صرف جلسوں میں پڑھنے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ اس کا اظہار عمل سے ہونا چاہیے اور جیسا کہ سویڈن نے کر کے دیکھایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *